حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کراچی/ جمہوری اسلامی ایران کے قونصل خانے کے زیر اہتمام عالمی یومِ مزاحمت اور اسلامی مزاحمت کے علمبردار، شہید القدس حاج قاسم سلیمانیؒ کی چھٹی برسی کے موقع پر کراچی میں ایک پُروقار اور باوقار تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں شیعہ و سنی علماء کرام، سیاسی و مذہبی قائدین، سماجی و فکری شخصیات، میڈیا نمائندگان، مختلف جامعات و علمی اداروں کے اساتذہ و طلبہ، کراچی میں مقیم ایرانی شہریوں اور خانۂ فرہنگ جمہوری اسلامی ایران کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سعید طالبی نیا نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور شہید قاسم سلیمانیؒ کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
مکمل تصاویر دیکھیں:
کراچی، ایرانی قونصلیٹ میں برسی شہید جنرل قاسم سلیمانیؒ کی مناسبت سے پُروقار تقریب
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کراچی میں تعینات ایرانی قونصل جنرل اکبر عیسیٰ زادے نے کہا کہ مزاحمتی محاذ کمزور نہیں ہوا بلکہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جو مستقبل میں نمایاں اور مثبت نتائج کا باعث بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج امتِ مسلمہ کے پاس ترقی اور اعلیٰ اہداف کے حصول کے لیے مزاحمت کے سوا کوئی مؤثر راستہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران مزاحمتی محاذ کی سیاسی، قانونی اور اخلاقی حمایت آئندہ بھی جاری رکھے گا، کیونکہ ایران اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل بیرونی طاقتوں کے ہاتھ میں نہیں بلکہ مزاحمتی محاذ کے اختیار میں ہے۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ مزاحمت صرف عسکری جدوجہد تک محدود نہیں بلکہ اقتصادی، ثقافتی، فنی، میڈیا اور سفارتی میدانوں میں بھی ایک مؤثر حکمتِ عملی کی حیثیت رکھتی ہے۔
پاکستان کونسل فار فارن ریلیشنز کے چیئرمین اور سابق سینئر سفارتکار حسن حبیب نے اپنے خطاب میں عالمی استکبار کے مقابلے میں امتِ مسلمہ کے اتحاد کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی استعمار نے مسلمانوں کے درمیان معمولی اختلافات سے فائدہ اٹھا کر انہیں کمزور کیا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ مسلمان دشمنوں کو باہمی تفرقہ ڈالنے کا موقع نہ دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دنیا کے مسلمان حقیقی معنوں میں متحد ہو جائیں تو کوئی طاقت ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی، تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اسلامی تعاون تنظیم مسلمانوں کے درمیان اتحاد کو مؤثر طور پر فروغ دینے میں ناکام رہی ہے۔
کراچی میں دفترِ خارجہ پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے خطاب کرتے ہوئے ایران اور پاکستان کے باہمی تعلقات کو خطے کے لیے اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کے مؤقف کی مضبوط حمایت کی، جس طرح پاکستان بھی 12 روزہ ایران-اسرائیل جنگ کے دوران ایران کے ساتھ کھڑا رہا اور بین الاقوامی فورمز پر اس کی غیر مشروط حمایت کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ علاقائی تنازعات کو طاقت، دھونس اور تسلط کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
جماعتِ اسلامی پاکستان کے سینئر رہنما محمد حسین محنتی نے کہا کہ امام خمینیؒ نے مسئلۂ فلسطین کو خصوصی اہمیت دی اور اسے ایرانی انقلابی ثقافت کا حصہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ 7 اکتوبر کے بعد دنیا نے ایک واضح تبدیلی دیکھی ہے، جہاں عالمی رائے عامہ جو پہلے اسرائیل کے حق میں تھی، اب مزاحمتی محاذ اور فلسطینی عوام کی حمایت میں نظر آتی ہے، اور یہ تبدیلی مزاحمت کے شہداء خصوصاً شہید جنرل قاسم سلیمانیؒ کے خون کی برکت کا نتیجہ ہے۔
ملی یکجہتی کونسل پاکستان اور جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے بعض اسلامی ممالک کی جانب سے ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت پر تنقید کرتے ہوئے اسے بالواسطہ طور پر اسرائیل کی حمایت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ایران واحد اسلامی ملک ہے جو کھل کر فلسطین کی حمایت کر رہا ہے اور دیگر اسلامی ممالک کو بھی ایران کی مثال پر عمل کرنا چاہیے۔
شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ شبیر میثمی نے مزاحمتی محاذ کے تمام شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ امام خمینیؒ نے عالمی سیاسی منظرنامے کو تبدیل کر کے مزاحمت کو آزادی کے واحد راستے کے طور پر متعارف کرایا۔ انہوں نے ایران کی اسلامی حکومت کے خلاف دھمکی آمیز بیانات کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران کی خودمختاری اور سلامتی پر کسی بھی قسم کی جارحیت ناقابلِ قبول ہے۔
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے نائب چیئرمین مولانا سید احمد اقبال رضوی نے کہا کہ داعش جیسے دہشت گرد گروہوں کو امریکا اور اسرائیل نے مزاحمتی محاذ کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا، تاہم شہید جنرل قاسم سلیمانیؒ نے ان سازشوں کو ناکام بنا کر نہ صرف عالمِ اسلام بلکہ پوری انسانیت کو ایک بڑے خطرے سے بچایا۔ انہوں نے کہا کہ استعمار مسلمانوں کے درمیان مذہبی اختلافات کو ہوا دے کر اتحاد کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے، مگر آج ایران پہلے سے زیادہ مضبوط اور باوقار مقام پر کھڑا ہے۔
اہلِ سنت مذہبی اسکالر مولانا آزاد جمیل نے تقریب کے انعقاد کو سراہتے ہوئے شہدائے قدس کو امتِ مسلمہ کے درمیان اتحاد اور بیداری کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بعض عالمی قوتیں انسانی حقوق اور جانوروں کے حقوق کے نام پر شور مچاتی ہیں، مگر عملی طور پر انسانی جانوں کے ضیاع اور ظلم و جبر پر خاموش رہتی ہیں۔
تقریب کے دوران معروف مداح سید شجاع رضوی نے ترانۂ شہادت پیش کیا، جبکہ شہید جنرل قاسم سلیمانیؒ کی حیات و خدمات پر مبنی خصوصی ڈاکیومنٹریز بھی شرکاء کو دکھائی گئیں۔ معروف ایرانی آرٹسٹ آغا اصغر بہزادی نے موقع پر فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہید جنرل قاسم سلیمانیؒ کی خوبصورت تصویر بنائی، جسے شرکاء نے بھرپور داد دی۔ تقریب کے اختتام پر میزبانی کے فرائض سید حیدر رضوی نے انجام دیئے۔









آپ کا تبصرہ